بینگلورو، 29/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی) )کرناٹک میں نئی کانگریس حکومت کے قیام کے بعد کانگریس کے بعض اراکین اسمبلی کی برہمی اور ان کی طرف سے اس کا اظہار کرتے ہوئے روانہ کئے گئے خط کے منظر عام پر آجانے کو کانگریس اعلیٰ کمان نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان تمام معاملوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے2/اگست کو ایک میٹنگ طلب کی ہے۔
حال ہی میں کانگریس کے رکن کونسل بی کے ہری پرساد نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے خلاف جو بیان دیا تھا، اس کابھی اعلیٰ کمان نے نوٹس کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے مرحلہ میں جبکہ لوک سبھا انتخابات کو صرف چند ماہ باقی رہ چکے ہیں، اس طرح کے بیانات اور خطو ط اگر منظر عام پر آتے رہے تواس سے پارٹی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ کل کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بعض اراکین اسمبلی و کونسل کی طرف سے برسر عام بیان بازی پر ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال کرناٹک میں کانگریس کی لہر چل رہی ہے اور پانچ گارنٹیوں کے نفاذ کی وجہ سے عوام کا رحجان کانگریس کی طرف ہے، اس ماحول کو خراب کرنے کے لئے اس طرح کی بیان بازی کافی ہے۔ اس دوران بتایا جاتا ہے کہ پارٹی اعلیٰ کمان کی طرف سے سبھی اراکین اسمبلی اور کونسل کو سخت ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکومت، وزراء یا وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کے بارے میں برسر عام بیان بازی سے گریز کریں۔بتایا جاتا ہے کہ 2اگست کی میٹنگ کے لئے وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار، رکن کونسل بی کے ہری پرساد اور دیگر کو مدعو کیا گیا ہے۔ میٹنگ میں اے آئی سی سی جنرل سکریٹریز کے سی وینو گوپال، رندیپ سنگھ سرجے والا بھی موجود رہیں گے۔اس دوران اراکین اسمبلی کی اس شکایت پر کہ وزراء ان سے مل نہیں رہے ہیں اس بات کا فیصلہ لیا گیا ہے کہ ہروزیر ضلع واراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور ان کے حلقوں کے جو بھی مسائل ہیں ان کو سلجھانے کی پوری کوشش کریں گے۔
سدارامیا نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وزراء یا وزیر اعلیٰ کو ان اراکین اسمبلی کے خط لکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر دستخطی مہم چلانا یا اس پر بیان بازی کرنا درست نہیں ہے۔اس مرحلہ میں انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے فرضی خط عام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر اراکین اسمبلی کے جو بھی مسائل ہوں ان کو سلجھانے کے لئے وزراء کو تاکید کی جائے گی۔